مغلیہ دور کی عکاسی کردہ شیخوپورہ کا تازیخی قلعہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے

مغلیہ دور کی عکاسی کردہ شیخوپورہ کا تازیخی قلعہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے ، قلعہ کے بیشتر حصے منہدم ہو چکے ہیں اور عمارت کو خطرناک قرار دے کر سیاحوں کے لیے بھی بند کر دیاگیا ہے

قلعہ شیخوپورہ جہاں سنہری تاریخ کا باب اپنے اندر سموئے ہوئے ہے وہیں آج کل حکومتی عدم توجہ کے باعث اس کی عمارت کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اس قلعہ کو 1606میں شہشاہ جہانگیر کے حکم پر اُنکے مشتاق شکاری سکندر أمین نے تعمیر کروایا۔ تاہم اب اس تاریخی عمارت کو خطرناک قرار دے کر سیاحوں کیلئے بند کر دیاگیا ہے،دور دراز سے آنے والے سیاح یہاں بند تالے دیکھ کر مایوسی کے عالم میں واپس لوٹ جاتے ہیں.

1964میں اس قلعہ کی دیکھ بھال أثار قدیمہ کے سپرد کردی گئی تھی۔ آثار قدیمہ کی غفلت اورلاپرواہی کے باعث یہ عمارت رفتہ رفتہ خستہ حالی کا شکار ہوتی جا رہی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قلعہ کی تاریخی حیثیت بحال کی جائے تاکہ یہ سیرو تفریح کے لیے ایک بہترین مقام بن سکے .

No Comments

Post A Comment

Verified by MonsterInsights