دُور کے ڈھول ہی سہانے ہیں

جو، کہیں بھی نہ آنے جانے کے
میں بناتا ہُوں، سب بہانے ہیں
دُور کے ڈھول ہی سہانے تھے
دُور کے ڈھول ہی سہانے ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

No Comments

Post A Comment

Verified by MonsterInsights